قرض گیر
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - قرض لینے والا، ادھار لینے والا، مقروض۔ "قرض گیر قرض کے بار سے کبھی سبکدوش نہ ہو سکا۔" ( ١٩٤٠ء، معاشیات ہند، (ترجمہ) ٤٤٢:١ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قرض' کے ساتھ فارسی مصدر 'گرفتن' سے مشتق صیغہ امر 'گیر' بطور لاحقہ فاعلی ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١٧ء میں "علم المعیشت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قرض لینے والا، ادھار لینے والا، مقروض۔ "قرض گیر قرض کے بار سے کبھی سبکدوش نہ ہو سکا۔" ( ١٩٤٠ء، معاشیات ہند، (ترجمہ) ٤٤٢:١ )
جنس: مذکر